یومِ یکجہتی کشمیر: پاکستانی قوم کا عزمِ نو
یومِ یکجہتی کشمیر، جسے عام طور پر "یومِ کشمیر" بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کی تاریخ اور سیاست میں ایک نہایت اہم اور جذباتی اہمیت کا حامل دن ہے۔ یہ دن محض ایک سرکاری تعطیل نہیں ہے، بلکہ یہ ریاستِ جموں و کشمیر کے ان لاکھوں عوام کے ساتھ غیر متزلزل محبت، اخوت اور سیاسی و اخلاقی حمایت کا اظہار ہے جو دہائیوں سے اپنے حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہر سال 5 فروری کو پورا پاکستان، آزاد جموں و کشمیر اور دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانی و کشمیری ایک آواز ہو کر عالمی برادری کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ ایک انسانی المیہ ہے جس کا حل کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہونا ناگزیر ہے۔
اس دن کی انفرادیت اس کے سنجیدہ اور پروقار انداز میں پنہاں ہے۔ جہاں دیگر قومی ایام جشن اور چراغاں کے ساتھ منائے جاتے ہیں، وہیں یومِ یکجہتی کشمیر احتجاج، دعا، فکر اور عہدِ وفا کا دن ہے۔ یہ دن پاکستانیوں کے دلوں میں کشمیر کے لیے موجود اس گہرے رشتے کی عکاسی کرتا ہے جو جغرافیائی سرحدوں سے بالاتر، مذہبی، ثقافتی اور تاریخی بنیادوں پر استوار ہے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جب ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتیں، مذہبی گروہ اور سول سوسائٹی اپنے تمام تر اختلافات بھلا کر صرف ایک ایجنڈے یعنی "کشمیر بنے گا پاکستان" یا کشمیریوں کی آزادی کے حق میں متحد ہو جاتی ہیں۔
پاکستان کے لیے کشمیر صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہے، بلکہ اسے پاکستان کی "شہ رگ" تصور کیا جاتا ہے۔ یومِ یکجہتی کشمیر اس نظریے کی تجدید کا دن ہے کہ جب تک کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق، یعنی اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار نہیں مل جاتا، پاکستان چین سے نہیں بیٹھے گا۔ یہ دن عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے اور اقوامِ متحدہ کی ان قراردادوں کی یاد دہانی کروانے کے لیے منایا جاتا ہے جو اب تک تشنہِ تکمیل ہیں۔
2026 میں یومِ کشمیر کب ہے؟
سال 2026 میں یومِ یکجہتی کشمیر کے حوالے سے اہم معلومات درج ذیل ہیں:
تاریخ: February 5, 2026
دن: Thursday
باقی دن: اس اہم دن کی آمد میں اب صرف 33 دن باقی ہیں۔
یومِ یکجہتی کشمیر کی تاریخ "مستقل" (Fixed) ہے۔ یہ ہر سال کیلنڈر کی تبدیلی سے قطع نظر ہمیشہ 5 فروری کو ہی منایا جاتا ہے۔ اس مستقل مزاجی کا مقصد اس دن کی اہمیت کو عوامی شعور میں پختہ کرنا ہے تاکہ ہر نسل کو معلوم ہو کہ فروری کا یہ دن کشمیری بہن بھائیوں کے نام ہے۔
تاریخی پس منظر اور آغاز
یومِ یکجہتی کشمیر کی بنیاد 1990 کی دہائی کے آغاز میں پڑی۔ یہ وہ دور تھا جب مقبوضہ کشمیر میں تحریکِ آزادی نے ایک نیا رخ اختیار کیا تھا اور بھارتی افواج کے مظالم میں شدید اضافہ ہو گیا تھا۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، جماعتِ اسلامی پاکستان کے اس وقت کے امیر، قاضی حسین احمد (مرحوم) نے یہ تجویز پیش کی کہ کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک قومی دن مقرر کیا جائے۔
اس تجویز کو اس وقت کے وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف نے بھرپور پذیرائی دی اور 1991 میں پہلی بار ملک گیر ہڑتال اور احتجاج کے ذریعے اس دن کو منانے کا آغاز ہوا۔ تاہم، اسے باضابطہ طور پر ایک سالانہ سرکاری تقریب اور قومی تعطیل کا درجہ 2004 میں دیا گیا، جس کا اعلان وفاقی وزارتِ امورِ کشمیر نے کیا۔ اس فیصلے کا مقصد یہ تھا کہ کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم مہیا کیا جائے اور ریاست کی سطح پر کشمیریوں کی جدوجہد کو تسلیم کیا جائے۔
تاریخی اعتبار سے یہ دن 1947 کی تقسیمِ ہند کے ادھورے ایجنڈے کی یاد دلاتا ہے۔ تقسیم کے اصولوں کے مطابق، مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے ناطے کشمیر کو پاکستان کا حصہ بننا تھا، لیکن اس وقت کے ڈوگرہ مہاراجہ کے متنازع فیصلے اور بھارتی افواج کے قبضے نے اس خطے کو ایک مستقل تنازع بنا دیا۔ تب سے اب تک، پاکستان اس موقف پر قائم ہے کہ کشمیر کا فیصلہ وہاں کے عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے۔
یومِ کشمیر کیسے منایا جاتا ہے؟ (روایات اور سرگرمیاں)
پاکستان میں یومِ کشمیر منانے کا انداز روایتی تہواروں سے بالکل مختلف ہے۔ اس دن کی سرگرمیاں سنجیدگی، یکجہتی اور احتجاج کے گرد گھومتی ہیں:
1۔ یکجہتی ریلیاں اور جلوس
ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر، جیسے اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، اور کوئٹہ میں بڑی بڑی ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ ان ریلیوں میں سیاسی رہنما، طلباء، وکلاء اور عام شہری شرکت کرتے ہیں۔ شرکاء کے ہاتھوں میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے جھنڈے ہوتے ہیں اور وہ کشمیریوں کے حق میں نعرے بازی کرتے ہیں۔ لندن، نیویارک اور دیگر عالمی دارالحکومتوں میں مقیم پاکستانی اور کشمیری برادری بھی اسی طرح کے مظاہرے کرتی ہے۔
2۔ انسانی زنجیر بنانا
اس دن کی سب سے منفرد روایت "انسانی زنجیر" (Human Chain) بنانا ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کو ملانے والے مقامات، خاص طور پر کوہالہ پل اور منگلا پل پر ہزاروں لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر ایک لمبی زنجیر بناتے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اور کشمیر کے عوام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور کوئی طاقت انہیں جدا نہیں کر سکتی۔
3۔ خصوصی دعائیہ تقاریب
مساجد میں نمازِ فجر کے بعد مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ قرآن خوانی کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے کشمیریوں کی مشکلات کے خاتمے کی التجا کی جاتی ہے۔
4۔ تعلیمی اداروں میں پروگرام
سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تقریری مقابلے، مضمون نویسی اور ٹیبلو پیش کیے جاتے ہیں۔ ان پروگراموں کا مقصد نئی نسل کو کشمیر کے مسئلے کی تاریخ، انسانی حقوق کی پامالیوں اور پاکستان کے اصولی موقف سے آگاہ کرنا ہے۔ طلباء نقشوں اور تصاویر کے ذریعے کشمیر کی موجودہ صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
5۔ میڈیا کی کوریج
پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز اس دن خصوصی نشریات پیش کرتے ہیں۔ دستاویزی فلمیں (Documentaries) دکھائی جاتی ہیں جن میں بھارتی افواج کے مظالم اور کشمیریوں کی ہمت و استقامت کی داستانیں بیان کی جاتی ہیں۔ اخبارات خصوصی ایڈیشن شائع کرتے ہیں جن میں دانشوروں اور تجزیہ کاروں کے مضامین شامل ہوتے ہیں۔
6۔ خاموشی کا وقفہ
صبح 10 بجے پورے ملک میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ ٹریفک رک جاتی ہے اور لوگ جہاں ہوتے ہیں وہیں کھڑے ہو کر شہدائے کشمیر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ یہ لمحہ پوری قوم کے متحد ہونے کی علامت ہے۔
سیاحوں اور غیر ملکیوں کے لیے عملی معلومات
اگر آپ 2026 میں یومِ کشمیر کے دوران پاکستان میں موجود ہیں، تو آپ کو درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:
رویہ اور احترام: یہ ایک حساس اور سیاسی دن ہے۔ سیاحوں کو چاہیے کہ وہ عوامی اجتماعات میں احترام کا مظاہرہ کریں۔ اگر آپ ان ریلیوں کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو آپ کا خوش مقدم کیا جائے گا، لیکن سیاسی نعرہ بازی اور جذباتیت سے باخبر رہیں۔
لباس: پاکستان میں عام طور پر اور خاص طور پر مذہبی یا سنجیدہ تقاریب میں باحیا لباس (Modest Dressing) کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ مردوں کے لیے شلوار قمیض یا پینٹ شرٹ اور خواتین کے لیے لمبی قمیض اور دوپٹہ مناسب رہتا ہے۔
آمد و رفت (Travel): بڑے شہروں میں ریلیوں کی وجہ سے اہم شاہراہیں بند ہو سکتی ہیں۔ خاص طور پر اسلام آباد میں ڈی چوک اور پارلیمنٹ ہاؤس کے قریبی علاقے ریڈ زون بن جاتے ہیں۔ اگر آپ کو سفر کرنا ہے تو مقامی خبروں سے باخبر رہیں اور ٹریفک کے متبادل راستوں کا انتخاب کریں۔
مقامات: سب سے بڑے اجتماعات اسلام آباد، لاہور (مال روڈ) اور مظفر آباد (آزاد کشمیر) میں ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں سفارتی انکلیو کے قریب بھی احتجاجی مظاہرے ہو سکتے ہیں۔
سیکیورٹی: اس دن سیکیورٹی کے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ موبائل فون سروس بعض علاقوں میں جزوی طور پر معطل کی جا سکتی ہے، لہذا اپنے رابطوں کا پہلے سے انتظام کر لیں۔
یومِ یکجہتی کشمیر کی علامات
اس دن کچھ خاص علامات اور اشیاء کا استعمال کثرت سے کیا جاتا ہے:
سیاہ پٹیاں: بہت سے لوگ بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھتے ہیں جو بھارتی قبضے کے خلاف احتجاج کی علامت ہے۔
کشمیر کا نقشہ: بیجز اور اسٹیکرز کی صورت میں کشمیر کا نقشہ سینے پر لگایا جاتا ہے۔
آزاد کشمیر کا جھنڈا: سبز، سفید اور نارنجی رنگوں پر مشتمل آزاد جموں و کشمیر کا پرچم ہر جگہ لہراتا نظر آتا ہے۔
کیا یہ عام تعطیل ہے؟
جی ہاں، یومِ یکجہتی کشمیر پاکستان میں ایک سرکاری قومی تعطیل (National Public Holiday) ہے۔
سرکاری دفاتر: تمام وفاقی اور صوبائی سرکاری دفاتر، عدالتیں اور سیکرٹریٹ بند رہتے ہیں۔
تعلیمی ادارے: تمام سرکاری اور نجی سکول، کالج اور یونیورسٹیاں بند رہتی ہیں (اگرچہ بعض اداروں میں صبح کے وقت خصوصی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں)۔
کاروبار اور مارکیٹیں: زیادہ تر نجی کمپنیاں اور بینک بند رہتے ہیں۔ بڑی مارکیٹیں اور تجارتی مراکز بھی یکجہتی کے طور پر کاروبار بند رکھتے ہیں، تاہم شام کے وقت کچھ دکانیں یا اشیائے ضروریہ کے اسٹورز کھل سکتے ہیں۔
- پبلک ٹرانسپورٹ: پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب ہوتی ہے لیکن ریلیوں کی وجہ سے روٹس محدود ہو سکتے ہیں۔
کشمیر کے مسئلے کی عالمی اہمیت
یومِ یکجہتی کشمیر صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا۔ اب یہ ایک عالمی مہم بن چکی ہے جس کا مقصد دنیا کو یہ بتانا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن تب تک ممکن نہیں جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ پاکستان اس دن کے ذریعے بین الاقوامی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور او آئی سی (OIC) سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔
پاکستانی سفارت خانے دنیا بھر میں سیمینارز اور فوٹو ایگزبیشنز کا انعقاد کرتے ہیں جہاں مقبوضہ وادی میں جاری کرفیو، انٹرنیٹ کی بندش اور سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں کے بارے میں حقائق پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ دن اس عہد کی تجدید ہے کہ پاکستان کشمیریوں کے سفارتی، سیاسی اور اخلاقی موقف کی حمایت جاری رکھے گا۔
اختتامی کلمات
یومِ یکجہتی کشمیر پاکستانی قوم کے اس عزم کا عکاس ہے کہ "کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے"۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے اور کشمیری عوام یہ قیمت اپنی جانوں، مالوں اور عزتوں کی قربانی دے کر ادا کر رہے ہیں۔ 5 فروری کا ہر لمحہ اس دعا اور امید کے ساتھ گزرتا ہے کہ جلد وہ صبح طلوع ہوگی جب کشمیری عوام آزادی کی فضا میں سانس لیں گے۔
چاہے آپ پاکستان میں ہوں یا بیرونِ ملک، 2026 کا یومِ کشمیر ہمیں ایک بار پھر اس انسانی کاز کے لیے متحد ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ ظلم چاہے کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، حق اور سچ کی جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
اہم نوٹ: February 5, 2026 کو ہونے والی تقریبات اور ٹریفک پلان کی تازہ ترین معلومات کے لیے مقامی انتظامیہ اور خبر رساں اداروں سے رابطے میں رہیں۔