Baisakhi

Pakistan • April 14, 2026 • Tuesday

101
Days
17
Hours
04
Mins
51
Secs
until Baisakhi
Asia/Karachi timezone

Holiday Details

Holiday Name
Baisakhi
Country
Pakistan
Date
April 14, 2026
Day of Week
Tuesday
Status
101 days away
About this Holiday
Baisakhi is a optional holiday in Pakistan

About Baisakhi

Also known as: بیساکھی

بیساکھی: پاکستان میں بہار اور ثقافت کا رنگین سنگم

بیساکھی پاکستان، بالخصوص پنجاب کی سرزمین کا ایک ایسا قدیم اور دلکش تہوار ہے جو صدیوں سے یہاں کی مٹی، خوشبو اور زراعت سے جڑا ہوا ہے۔ یہ محض ایک دن نہیں بلکہ ایک مکمل احساس ہے جو کسانوں کی محنت، بہار کی آمد اور سکھ برادری کی مذہبی تاریخ کا احاطہ کرتا ہے۔ پاکستان میں بیساکھی کا تہوار ایک منفرد اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ خطہ سکھ مت کے بانی بابا گرو نانک کی جائے پیدائش ہے، جس کی وجہ سے یہ دن روحانیت اور ثقافت کا ایک حسین امتزاج بن جاتا ہے۔

پاکستان میں بیساکھی کا مطلب ہے گندم کی سنہری فصلوں کی کٹائی کا آغاز، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا، اور گوردواروں میں عقیدت مندوں کا ہجوم۔ جب پنجاب کے میدانوں میں سرسوں کے پیلے پھول اپنی بہار دکھا کر رخصت ہوتے ہیں اور گندم کی بالیاں پک کر تیار ہو جاتی ہیں، تو کسان اللہ کا شکر ادا کرنے اور اپنی خوشی منانے کے لیے بیساکھی کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ تہوار امن، بھائی چارے اور نئی شروعات کی علامت سمجھا جاتا ہے، جہاں سرحدوں کی بندشیں بھی عقیدت کے سامنے کمزور پڑ جاتی ہیں۔

2026 میں بیساکھی کب ہے؟

پاکستان میں بیساکھی کا تہوار شمسی کیلنڈر کے مطابق منایا جاتا ہے، جو عموماً اپریل کے وسط میں آتا ہے۔ سال 2026 کے لیے اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

تاریخ: April 14, 2026 دن: Tuesday باقی دن: اب سے صرف 101 دن باقی ہیں۔

بیساکھی کی تاریخ عموماً 13 یا 14 اپریل کے گرد گھومتی ہے۔ نانک شاہی کیلنڈر اور شمسی سال (سولر نیو ایئر) کے آغاز کے مطابق اس کا تعین کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس کا سرکاری طور پر اعتراف کیا جاتا ہے، خاص طور پر سکھ زائرین کے لیے جو اس موقع پر بھارت اور دنیا بھر سے پاکستان کا سفر کرتے ہیں۔

بیساکھی کی تاریخ اور پس منظر

بیساکھی کی جڑیں دو مختلف پہلوؤں میں پیوست ہیں: ایک زرعی اور دوسرا مذہبی۔

زرعی اہمیت (پنجابی ثقافت)

تاریخی طور پر، بیساکھی قدیم پنجاب کا ایک اہم زرعی میلہ رہا ہے۔ جب ربیع کی فصل (خاص طور پر گندم) پک کر تیار ہو جاتی اور کسان کی سال بھر کی محنت رنگ لاتی، تو وہ اس خوشی کا اظہار رقص اور موسیقی سے کرتا تھا۔ یہ پنجاب کے دیہی علاقوں میں خوشحالی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ مغل دور اور اس سے پہلے بھی، یہ دن خطے کے تمام لوگوں کے لیے سانجھا تھا، چاہے وہ مسلمان ہوں، ہندو ہوں یا سکھ۔

مذہبی اہمیت (خالصہ کا قیام)

سکھ مت کے لیے بیساکھی کا دن ایک عظیم تاریخی موڑ ہے۔ 13 اپریل 1699 کو دسویں سکھ گرو، گرو گوبند سنگھ جی نے آنند پور صاحب میں "خالصہ پنتھ" کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب سکھ برادری کو مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے منظم کیا گیا تھا۔ گرو گوبند سنگھ نے پانچ پیاروں کو امرت چھکا کر سکھ مت میں ایک نئی روح پھونکی اور انہیں ایک مخصوص شناخت عطا کی۔ اسی وجہ سے سکھ برادری کے لیے یہ دن ان کی مذہبی شناخت اور جرات کا استعارہ ہے۔

پاکستان میں بیساکھی کی روایات اور تقریبات

پاکستان میں بیساکھی کی تقریبات کا مرکز پنجاب کے مختلف شہر، خاص طور پر ننکانہ صاحب، حسن ابدال (پنجہ صاحب) اور لاہور ہیں۔

گوردواروں میں عبادات

بیساکھی کے موقع پر پاکستان کے تمام بڑے گوردواروں کو برقی قمقموں اور پھولوں سے سجایا جاتا ہے۔ زائرین کی بڑی تعداد گوردوارہ پنجہ صاحب (حسن ابدال) اور گوردوارہ جنم استھان (ننکانہ صاحب) کا رخ کرتی ہے۔ یہاں "اکھنڈ پاٹھ" (گرو گرنتھ صاحب کی مسلسل تلاوت) کی جاتی ہے، کیرتن ہوتا ہے اور خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ "نگر کیرتن" یا مذہبی جلوس بھی نکالے جاتے ہیں جن میں سکھ نوجوان اپنی روایتی جنگی مہارتوں (گتکا) کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

لنگر کی تقسیم

سکھ مت کی خوبصورت روایت "لنگر" بیساکھی کے موقع پر اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ گوردواروں میں آنے والے ہر شخص کے لیے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، مفت کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ مساوات اور انسانیت کی خدمت کا ایک بہترین نمونہ پیش کرتا ہے۔

زرعی میلے اور بھنگڑا

پنجاب کے دیہاتوں میں آج بھی بیساکھی کے میلے منعقد ہوتے ہیں۔ ڈھولچیوں کے گرد لوگ جمع ہو کر روایتی بھنگڑا اور گدھا ڈالتے ہیں۔ کسان اپنی پہلی کٹائی کا کچھ حصہ صدقہ کرتے ہیں اور اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان میلوں میں کشتی، کبڈی اور دیگر روایتی کھیلوں کے مقابلے بھی ہوتے ہیں۔

مقدس اشنان (غسل)

بیساکھی کے دن صبح سویرے زائرین مقدس تالابوں یا دریاؤں میں غسل کرتے ہیں۔ یہ عمل روح کی پاکیزگی اور نئے سال کے استقبال کے لیے کیا جاتا ہے۔ پنجہ صاحب میں پانی کے چشمے میں غسل کرنا زائرین کے لیے بڑی سعادت کی بات سمجھی جاتی ہے۔

زائرین اور سیاحوں کے لیے اہم معلومات

پاکستان ہر سال بیساکھی کے موقع پر بھارت اور دیگر ممالک سے ہزاروں سکھ زائرین کو خوش آمدید کہتا ہے۔ حکومتِ پاکستان ان زائرین کے لیے خصوصی ویزے جاری کرتی ہے اور ان کی حفاظت و سہولت کے لیے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔

  1. سفر اور ویزہ: بھارتی زائرین کے لیے واہگہ بارڈر کے ذریعے خصوصی ٹرینیں یا بسیں چلائی جاتی ہیں۔ دیگر ممالک کے سکھ بھی آن لائن ویزہ سسٹم کے ذریعے پاکستان آ سکتے ہیں۔
  2. اہم مقامات: زائرین کے لیے لاہور میں گوردوارہ ڈیرا صاحب، حسن ابدال میں پنجہ صاحب اور ننکانہ صاحب سب سے اہم مقامات ہیں۔ کرتار پور راہداری بھی اب زائرین کے لیے ایک بڑا مرکز بن چکی ہے۔
  3. لباس اور آداب: گوردواروں میں داخل ہوتے وقت سر ڈھانپنا اور جوتے اتارنا لازمی ہے۔ غیر سکھ سیاحوں کا بھی وہاں احترام کیا جاتا ہے اور انہیں لنگر میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔
  4. موسم: اپریل کے مہینے میں پنجاب کا موسم خوشگوار سے گرم کی طرف مائل ہوتا ہے۔ درجہ حرارت عموماً 25 سے 35 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہتا ہے، اس لیے ہلکے سوتی کپڑے مناسب رہتے ہیں۔

پاکستان میں بیساکھی کے منفرد پہلو

پاکستان میں بیساکھی کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ یہ بین المذاہب ہم آہنگی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اگرچہ ضیاء الحق کے دور کے بعد مسلمانوں میں اس تہوار کی عوامی سطح پر شرکت میں کمی آئی تھی، لیکن حالیہ برسوں میں حکومت نے اسے دوبارہ سرکاری سطح پر فروغ دینا شروع کیا ہے۔ 2010 کے بعد سے، پنجاب حکومت نے بیساکھی کو ایک ثقافتی ورثے کے طور پر منانا شروع کیا ہے تاکہ پاکستان کے متنوع چہرے کو دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔

یہاں کی بیساکھی بھارت کے مقابلے میں زیادہ پرسکون اور روحانی ہوتی ہے۔ زائرین یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی اور تاریخی مقامات کی قدامت سے بہت متاثر ہوتے ہیں۔ لاہور کا شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد کے قریب واقع گوردوارہ ڈیرا صاحب اس تہوار کے دوران ایک الگ ہی منظر پیش کرتا ہے، جہاں تاریخ کے مختلف ادوار ایک دوسرے سے بغل گیر نظر آتے ہیں۔

کیا بیساکھی پر عام تعطیل ہوتی ہے؟

پاکستان میں بیساکھی کے حوالے سے چھٹیوں کی صورتحال درج ذیل ہے:

سرکاری حیثیت: بیساکھی پاکستان میں قومی سطح پر عام تعطیل (Public Holiday) نہیں ہے۔ یعنی تمام وفاقی اور صوبائی دفاتر، بینک اور تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہتے ہیں۔ اقلیتی چھٹی: پاکستان کی وفاقی وزارت برائے مذہبی امور اور اقلیتوں نے بیساکھی کو سکھ برادری کے لیے ایک "اختیاری چھٹی" (Optional Holiday) کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ سکھ ملازمین اس دن اپنی مذہبی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے چھٹی لینے کا حق رکھتے ہیں۔ مقامی اثرات: جن علاقوں میں گوردوارے موجود ہیں یا جہاں زائرین کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے، وہاں ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکتی ہے اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کی وجہ سے کچھ راستے بند ہو سکتے ہیں۔

اختتامی کلمات

بیساکھی پاکستان کے ثقافتی گلدستے کا ایک اہم پھول ہے۔ یہ تہوار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پنجاب کی تاریخ کتنی قدیم اور زرخیز ہے۔ چاہے وہ کسان کی خوشی ہو یا خالصہ کا عزم، بیساکھی کا پیغام ہمیشہ امید اور اتحاد کا رہا ہے۔ سال 2026 میں جب April 14, 2026 کو یہ دن منایا جائے گا، تو ایک بار پھر پنجاب کی فضاؤں میں ڈھول کی گونج اور "واہگورو جی کا خالصہ، واہگورو جی کی فتح" کے نعرے محبت اور امن کا پیغام عام کریں گے۔

پاکستان آنے والے زائرین کے لیے یہ محض ایک سفر نہیں بلکہ اپنی جڑوں سے جڑنے کا ایک موقع ہوتا ہے، اور پاکستانیوں کے لیے یہ اپنی عظیم مہمان نوازی کی روایت کو دہرانے کا وقت ہے۔ بیساکھی مبارک!

Frequently Asked Questions

Common questions about Baisakhi in Pakistan

پاکستان میں بیساکھی کا تہوار April 14, 2026 کو منایا جائے گا، جو کہ Tuesday کا دن ہے۔ اس اہم مذہبی اور ثقافتی تقریب کی آمد میں اب صرف 101 دن باقی ہیں۔ سکھ برادری کے لیے یہ دن انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ نانک شاہی کیلنڈر کے مطابق نئے سال کے آغاز اور خالصہ پنتھ کی بنیاد رکھنے کی یادگار ہے۔

بیساکھی پاکستان میں ملک گیر عوامی تعطیل نہیں ہے، اس لیے سرکاری دفاتر اور زیادہ تر کاروبار معمول کے مطابق کھلے رہتے ہیں۔ تاہم، وفاقی وزارت برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی اسے سکھ برادری کے لیے ایک سرکاری تہوار کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔ سکھ ملازمین کو اس موقع پر خصوصی طور پر چھٹی کی اجازت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں۔

بیساکھی بنیادی طور پر ایک سکھ مذہبی تہوار ہے جو 13 اپریل 1699 کو گرو گوبند سنگھ جی کے ہاتھوں 'خالصہ پنتھ' کے قیام کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد مذہبی آزادی کا تحفظ اور ظلم کے خلاف جدوجہد تھا۔ اس کے علاوہ، پنجاب کی تاریخ میں یہ ایک قدیم ثقافتی میلہ بھی ہے جو گندم کی فصل کی کٹائی اور موسم بہار کے آغاز کی علامت ہے۔ پاکستان میں یہ دن سکھ برادری کے لیے روحانی تجدید اور اتحاد کا پیغام لاتا ہے۔

پاکستان میں بیساکھی کی سب سے بڑی اور اہم تقریبات پنجاب کے مختلف گردواروں میں منعقد ہوتی ہیں۔ خاص طور پر ننکانہ صاحب، حسن ابدال میں گردوارہ پنجہ صاحب، اور لاہور کے تاریخی گردواروں میں ہزاروں زائرین جمع ہوتے ہیں۔ بھارت اور دنیا بھر سے سکھ یاتری ان مقدس مقامات کی زیارت کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ ان مقامات پر کیرتن، مذہبی جلوس (نگر کیرتن) اور لنگر کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔

بیساکھی کے دوران سکھ برادری گردواروں کو خوبصورتی سے سجاتی ہے اور خصوصی دعائیہ تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔ کسان اپنی اچھی فصل پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور فصل کی کٹائی کا آغاز کرتے ہیں۔ روایتی طور پر بھنگڑا اور گدھا جیسے رقص پیش کیے جاتے ہیں اور دیہاتوں میں میلے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ 'امرت چھکنا' (بپتسمہ) کی رسم بھی ادا کی جاتی ہے اور مقدس پانی میں غسل کر کے نئے عزم کے ساتھ سال کا آغاز کیا جاتا ہے۔

بیساکھی کے موقع پر پنجاب کے روایتی پکوانوں کی دھوم ہوتی ہے۔ لنگر میں سادہ لیکن لذیذ کھانا مفت تقسیم کیا جاتا ہے جس میں دال، چاول، روٹی اور سبزی شامل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ میٹھے پکوان جیسے حلوہ، کھیر، اور جلیبیاں خاص طور پر تیار کی جاتی ہیں۔ چونکہ یہ فصل کی کٹائی کا وقت ہوتا ہے، اس لیے تازہ گندم اور گنے کے رس سے بنی اشیاء بھی ان تقریبات کا لازمی حصہ ہوتی ہیں۔

پاکستان حکومت ہر سال بھارت اور دیگر ممالک سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے خصوصی ویزے جاری کرتی ہے۔ یاتریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے سفر کی منصوبہ بندی پہلے سے کریں کیونکہ گردواروں میں بہت زیادہ رش ہوتا ہے۔ زائرین کو چاہیے کہ وہ گردوارے کے آداب کا خیال رکھیں، جیسے سر ڈھانپنا اور جوتے باہر اتارنا۔ غیر سکھ افراد کا بھی لنگر اور تقریبات میں خیر مقدم کیا جاتا ہے، جو بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک بہترین مثال ہے۔

اپریل کے وسط میں پنجاب کا موسم عام طور پر خوشگوار سے گرم کی طرف مائل ہوتا ہے۔ درجہ حرارت 25 سے 35 ڈگری سیلسیئس کے درمیان رہتا ہے، جو بیرونی میلوں اور تقریبات کے لیے بہترین ہے۔ زائرین کو ہلکے سوتی کپڑے پہننے کی سفارش کی جاتی ہے۔ یہ موسم بہار کی رخصتی اور موسم گرما کی آمد کا وقت ہوتا ہے، جس سے کھیتوں میں لہلہاتی سنہری گندم کے مناظر انتہائی دلکش نظر آتے ہیں۔

Historical Dates

Baisakhi dates in Pakistan from 2010 to 2025

Year Day of Week Date
2025 Sunday April 13, 2025
2024 Saturday April 13, 2024
2023 Friday April 14, 2023
2022 Thursday April 14, 2022
2021 Wednesday April 14, 2021
2020 Monday April 13, 2020
2019 Sunday April 14, 2019
2018 Saturday April 14, 2018
2017 Friday April 14, 2017
2016 Wednesday April 13, 2016
2015 Tuesday April 14, 2015
2014 Monday April 14, 2014
2013 Saturday April 13, 2013
2012 Friday April 13, 2012
2011 Thursday April 14, 2011
2010 Wednesday April 14, 2010

Note: Holiday dates may vary. Some holidays follow lunar calendars or have different observance dates. Purple indicates weekends.

About Pakistan

Country Code
PK
Continent
Asia
Total Holidays
20