Easter Sunday

Pakistan • April 5, 2026 • Sunday

92
Days
17
Hours
06
Mins
47
Secs
until Easter Sunday
Asia/Karachi timezone

Holiday Details

Holiday Name
Easter Sunday
Country
Pakistan
Date
April 5, 2026
Day of Week
Sunday
Status
92 days away
Weekend
Falls on weekend
About this Holiday
Easter Sunday commemorates Jesus Christ’s resurrection, according to Christian belief.

About Easter Sunday

Also known as: ایسٹر

پاکستان میں ایسٹر سنڈے: امید اور نئی زندگی کا تہوار

ایسٹر سنڈے پاکستان کی مسیحی برادری کے لیے سال کا سب سے مقدس اور خوشی سے بھرپور دن ہوتا ہے۔ یہ دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب کیے جانے کے تین دن بعد دوبارہ زندہ ہونے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ مسیحی عقیدے کے مطابق، یہ واقعہ موت پر زندگی کی فتح اور گناہوں سے نجات کی علامت ہے۔ پاکستان جیسے مسلم اکثریتی ملک میں، جہاں مسیحی آبادی کل آبادی کا تقریباً 2 فیصد ہے، یہ تہوار مذہبی جوش و خروش، روایتی عقیدت اور سماجی ہم آہنگی کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

ایسٹر کا جوہر "امید" میں پنہاں ہے۔ یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ اندھیرے کے بعد روشنی اور دکھ کے بعد سکھ لازمی آتا ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں، خاص طور پر لاہور، کراچی، اور اسلام آباد میں رہنے والے مسیحی خاندان اس دن کی تیاری ہفتوں پہلے شروع کر دیتے ہیں۔ گرجا گھروں کی صفائی، نئے کپڑوں کی خریداری اور خصوصی دعائیہ تقریبات کا اہتمام اس تہوار کی رونق کو دوبالا کر دیتا ہے۔ یہ محض ایک مذہبی رسم نہیں ہے، بلکہ یہ خاندانوں کے اکٹھے ہونے، تلخیاں بھلانے اور امن و محبت کا پیغام عام کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

پاکستان میں ایسٹر کی خوبصورتی اس کے مقامی رنگوں میں چھپی ہوئی ہے۔ اگرچہ اس کی جڑیں عالمی مسیحی روایات میں ہیں، لیکن پاکستانی مسیحی اسے اپنی ثقافت کے مطابق ڈھال کر مناتے ہیں۔ گرجا گھروں میں اردو اور پنجابی زبان میں گائے جانے والے زبور اور گیت، دیسی کھانوں کی خوشبو اور محلے داروں میں مٹھائیاں بانٹنے کا عمل اسے ایک منفرد پاکستانی پہچان عطا کرتا ہے۔ یہ دن بین المذاہب ہم آہنگی کی بھی ایک بہترین مثال پیش کرتا ہے، جہاں اکثر مسلمان پڑوسی اپنے مسیحی دوستوں کو مبارکباد دیتے ہیں اور ان کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔

2026 میں ایسٹر کب ہے؟

پاکستان میں ایسٹر سنڈے کی تاریخ ہر سال تبدیل ہوتی رہتی ہے کیونکہ اس کا تعین قمری کیلنڈر (چاند کے حساب) سے کیا جاتا ہے۔ سال 2026 کے لیے ایسٹر کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

دن: Sunday تاریخ: April 5, 2026 باقی دن: اب سے ایسٹر تک 92 دن باقی ہیں۔

ایسٹر کی تاریخ ایک متغیر (Variable) تاریخ ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ ہر سال ایک ہی دن نہیں آتا۔ عام طور پر یہ 22 مارچ سے 25 اپریل کے درمیان کسی اتوار کو منایا جاتا ہے۔ اس کا تعین "پاسکال فل مون" (Paschal Full Moon) کے بعد آنے والے پہلے اتوار سے کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی بین الاقوامی کیلنڈر کے مطابق ہی اسے منایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے پوری دنیا کے مسیحی ایک ہی دن اس جشن میں شریک ہوتے ہیں۔

ایسٹر کی تاریخ اور اہمیت

ایسٹر کی جڑیں قدیم مسیحی تاریخ میں بہت گہری ہیں۔ بائبل کے مطابق، جمعہ کے دن (گڈ فرائیڈے) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کیا گیا تھا، اور اتوار کی صبح جب ان کے پیروکار ان کی قبر پر پہنچے تو وہ اسے خالی پایا۔ فرشتوں نے انہیں خبر دی کہ وہ دوبارہ زندہ ہو چکے ہیں۔ اس واقعے نے مسیحیت کی بنیاد رکھی اور اسے "قیامت" (Resurrection) کا نام دیا گیا۔

پاکستان میں مسیحی برادری کے لیے اس دن کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ ان کی مذہبی شناخت کا ایک اہم ستون ہے۔ ملک کے قیام سے لے کر اب تک، مسیحی برادری نے پاکستان کی تعمیر و ترقی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ایسٹر کے موقع پر، وہ اپنی ان قربانیوں کو یاد کرتے ہیں اور ملک کی سلامتی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں مانگتے ہیں۔ یہ دن انہیں یاد دلاتا ہے کہ مشکلات چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، ایمان اور استقامت سے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں ایسٹر کیسے منایا جاتا ہے؟

پاکستان میں ایسٹر کی تقریبات کا آغاز "روزوں" (Lent) کے ایام سے ہوتا ہے، جو چالیس دن تک جاری رہتے ہیں۔ ان دنوں میں مسیحی عبادت، توبہ اور پرہیزگاری پر توجہ دیتے ہیں۔ ایسٹر سنڈے ان چالیس دنوں کی عبادت کا نقطہ عروج ہوتا ہے۔

مذہبی رسومات اور عبادات

ایسٹر سنڈے کا آغاز علی الصبح "سن رائز سروس" (Sunrise Service) سے ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ سورج نکلنے سے پہلے ہی گرجا گھروں میں جمع ہو جاتے ہیں تاکہ اس لمحے کی یاد تازہ کریں جب مریم مگدلینی نے خالی قبر دیکھی تھی۔ لاہور کے یوحنا آباد، کراچی کے سینٹ پیٹرک کیتھڈرل اور راولپنڈی کے مختلف گرجا گھروں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔

گرجا گھروں کو پھولوں اور موم بتیوں سے سجایا جاتا ہے۔ خصوصی دعائیہ اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں جن میں بائبل کے اقتباسات پڑھے جاتے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی اور ان کے پیغام پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ عبادت کے بعد، لوگ ایک دوسرے کو "ایسٹر مبارک" کہتے ہیں اور گلے مل کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔

خاندانی اجتماعات اور ضیافتیں

عبادت کے بعد، لوگ اپنے گھروں کا رخ کرتے ہیں جہاں پر تکلف کھانوں کا اہتمام ہوتا ہے۔ پاکستان میں ایسٹر کا دسترخوان دیسی ذائقوں سے بھرا ہوتا ہے۔ مٹن کڑاہی، چکن پلاؤ، بریانی اور مختلف قسم کے کباب دسترخوان کی زینت بنتے ہیں۔ میٹھے میں کھیر، سویاں یا زردہ خاص طور پر بنایا جاتا ہے۔

خاندان کے تمام افراد، چاہے وہ کسی بھی شہر میں ہوں، کوشش کرتے ہیں کہ ایسٹر پر اپنے آبائی گھر میں جمع ہوں۔ بزرگ بچوں کو عیدی یا تحائف دیتے ہیں، جس سے بچوں کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔

ایسٹر ایگز (انڈے) کی روایت

اگرچہ ایسٹر ایگز کی روایت مغربی ہے، لیکن پاکستان کے شہری علاقوں میں یہ تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ بچے انڈوں کو رنگتے ہیں اور ان پر خوبصورت نقش و نگار بناتے ہیں۔ انڈہ نئی زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے، جو ایسٹر کے پیغام "دوبارہ جنم" کے عین مطابق ہے۔ کچھ اسکولوں اور کمیونٹی سینٹرز میں بچوں کے لیے "ایگ ہنٹ" (Egg Hunt) کے مقابلے بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔

سیاحوں اور غیر ملکیوں کے لیے عملی معلومات

اگر آپ 2026 میں ایسٹر کے دوران پاکستان میں ہیں، تو آپ اس تہوار کی رونقوں کا حصہ بن سکتے ہیں۔ یہاں کچھ اہم نکات دیے گئے ہیں:

  1. لباس اور آداب: گرجا گھروں کا دورہ کرتے وقت شائستہ اور باوقار لباس پہنیں۔ پاکستان ایک قدامت پسند معاشرہ ہے، اس لیے مرد اور خواتین دونوں کو ایسے لباس سے گریز کرنا چاہیے جو مقامی حساسیت کے خلاف ہو۔
  2. تصویر کشی: گرجا گھروں کے اندر فوٹو گرافی کرنے سے پہلے انتظامیہ سے اجازت لینا ضروری ہے۔ عبادت کے دوران خاموشی اور احترام برقرار رکھیں۔
  3. مشہور مقامات: لاہور میں کیتھڈرل چرچ آف دی ریزریکشن (مال روڈ) اور یوحنا آباد کے گرجا گھر دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ کراچی میں سینٹ پیٹرک کیتھڈرل اپنی فن تعمیر کی وجہ سے مشہور ہے۔ اسلام آباد میں بھی کئی خوبصورت چرچ موجود ہیں جہاں غیر ملکیوں کی بڑی تعداد آتی ہے۔
  4. سیکیورٹی: بڑے تہواروں پر گرجا گھروں کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ زائرین کو تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑ سکتا ہے، لہذا تعاون کریں اور اپنا شناختی کارڈ ساتھ رکھیں۔
  5. موسم: اپریل کے مہینے میں پاکستان کے بیشتر حصوں میں موسم گرم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ درجہ حرارت 25 سے 35 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہ سکتا ہے، اس لیے ہلکے سوتی کپڑے موزوں رہیں گے۔

کیا ایسٹر سنڈے پر عام تعطیل ہوتی ہے؟

پاکستان میں ایسٹر سنڈے کے حوالے سے تعطیل کی صورتحال درج ذیل ہے:

قومی تعطیل: ایسٹر سنڈے پاکستان میں "قومی عام تعطیل" (National Public Holiday) نہیں ہے۔ چونکہ یہ ہمیشہ اتوار کو آتا ہے، اس لیے سرکاری دفاتر اور بینک پہلے ہی ہفتہ وار چھٹی کی وجہ سے بند ہوتے ہیں۔ مسیحی ملازمین کے لیے رعایت: حکومت پاکستان کی پالیسی کے مطابق، مسیحی ملازمین کو ان کے مذہبی تہواروں پر چھٹی لینے کی اجازت ہوتی ہے۔ بہت سے نجی ادارے اور مسیحی تعلیمی ادارے اس دن مکمل طور پر بند رہتے ہیں۔ ایسٹر منڈے: پاکستان کے کچھ سرکاری کیلنڈرز میں "ایسٹر منڈے" (6 اپریل 2026) کو صرف مسیحی برادری کے لیے اختیاری چھٹی کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی سفارت خانے اکثر اس دن بند رہتے ہیں۔

  • کاروبار اور ٹرانسپورٹ: ملک بھر میں بازار، شاپنگ مالز، پبلک ٹرانسپورٹ اور ریستوران معمول کے مطابق کھلے رہتے ہیں۔ صرف ان علاقوں میں جہاں مسیحی آبادی زیادہ ہے، وہاں کچھ چھوٹی دکانیں بند ہو سکتی ہیں۔
ایسٹر سنڈے پاکستان کی متنوع ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ دن نہ صرف مسیحی برادری کی مذہبی عقیدت کا مظہر ہے بلکہ یہ پاکستانی معاشرے میں موجود رواداری اور بھائی چارے کی علامت بھی ہے۔ April 5, 2026 کو منایا جانے والا یہ تہوار ایک بار پھر امن اور امید کا پیغام لے کر آئے گا، جو پاکستان کے تمام شہریوں کو ایک لڑی میں پرونے کا باعث بنتا ہے۔

Frequently Asked Questions

Common questions about Easter Sunday in Pakistan

پاکستان میں ایسٹر سنڈے 2026 کا تہوار Sunday، April 5, 2026 کو منایا جائے گا۔ اس اہم مذہبی دن کی آمد میں اب 92 دن باقی ہیں۔ یہ دن مسیحی تقویم کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جی اٹھنے کی یاد میں منایا جاتا ہے اور پاکستان بھر میں مسیحی برادری اس کی تیاری بھرپور جوش و خروش سے کرتی ہے۔

نہیں، ایسٹر سنڈے پاکستان میں قومی سطح پر عام تعطیل نہیں ہے۔ سرکاری دفاتر، بینک اور زیادہ تر کاروباری مراکز معمول کے مطابق کھلے رہتے ہیں۔ تاہم، یہ دن پاکستان کی مسیحی اقلیت (جو کل آبادی کا تقریباً 2 فیصد ہے) کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بعض صورتوں میں ایسٹر منڈے کو مخصوص اداروں میں چھٹی دی جاتی ہے، اور مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے ملازمین اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے خصوصی رخصت حاصل کر سکتے ہیں۔

ایسٹر سنڈے مسیحی عقیدے کا ایک بنیادی ستون ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب کیے جانے کے تین دن بعد دوبارہ زندہ ہونے کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ یہ دن امید، تجدید اور زندگی کی موت پر فتح کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان جیسے مسلم اکثریتی ملک میں، مسیحی برادری اس دن کو اپنی مذہبی شناخت اور عقیدت کے اظہار کے طور پر مناتی ہے، جو کرسمس کے بعد ان کا دوسرا بڑا مذہبی تہوار ہے۔

پاکستانی مسیحی برادری اس دن کا آغاز صبح سویرے گرجا گھروں میں خصوصی دعائیہ تقریبات اور سروسز سے کرتی ہے۔ گرجا گھروں کو خوبصورتی سے سجایا جاتا ہے جہاں حمد و ثنا کے گیت گائے جاتے ہیں اور جی اٹھنے کے موضوع پر خطبات دیے جاتے ہیں۔ دعا کے بعد لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے ہیں، جس میں روایتی پکوان جیسے کڑاہی، لیمب اور انڈے شامل ہوتے ہیں۔ بچوں کے لیے انڈوں کی سجاوٹ اور دیگر تفریحی سرگرمیاں بھی ترتیب دی جاتی ہیں۔

ایسٹر کے موقع پر گرجا گھروں کے اندر کا ماحول نہایت پروقار اور روحانی ہوتا ہے، جبکہ خاندانی حلقوں میں جشن کا سماں ہوتا ہے۔ چونکہ یہ اقلیتی تہوار ہے، اس لیے قومی سطح پر کوئی بڑی پریڈ یا عوامی میلے دیکھنے میں نہیں آتے، لیکن مسیحی بستیوں جیسے لاہور میں یوحنا آباد اور کراچی میں سینٹ پیٹرک کیتھڈرل کے گرد و نواح میں کافی چہل پہل اور رونق ہوتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو 'ایسٹر مبارک' کہہ کر خوشیاں بانٹتے ہیں۔

پاکستان میں ایسٹر کے موقع پر گرجا گھروں کا دورہ کرنے والے سیاحوں کو چاہیے کہ وہ مقامی ثقافت اور مذہبی آداب کا خیال رکھتے ہوئے باپردہ اور مناسب لباس زیب تن کریں۔ عوامی دعائیہ تقاریب میں غیر مسیحیوں کا خیر مقدم کیا جاتا ہے، لیکن تصاویر لینے سے پہلے انتظامیہ سے اجازت لینا ضروری ہے۔ یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ پاکستان میں مذہبی معاملات حساس ہو سکتے ہیں، اس لیے کسی بھی قسم کی تبلیغ سے گریز کرنا چاہیے اور مقامی کمیونٹی کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے۔

ایسٹر کی سب سے بڑی اور فعال تقریبات لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں منعقد ہوتی ہیں۔ لاہور میں یوحنا آباد اور فرانسس چرچ کے علاقے مسیحی آبادی کے بڑے مراکز ہیں جہاں گہما گہمی زیادہ ہوتی ہے۔ کراچی میں سینٹ پیٹرک کیتھڈرل ایک تاریخی مقام ہے جہاں بڑے پیمانے پر اجتماع ہوتا ہے۔ اسلام آباد میں بھی مختلف گرجا گھروں میں سفارتی عملے اور مقامی مسیحیوں کے لیے خصوصی پروگرام ترتیب دیے جاتے ہیں۔

اپریل کے مہینے میں پاکستان کے بیشتر حصوں میں موسم گرم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ درجہ حرارت عام طور پر 25 سے 35 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہتا ہے، جو بیرونی اجتماعات اور خاندانی پکنک کے لیے کافی سازگار ہوتا ہے۔ سیاحوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ہلکا سوتی لباس پہنیں اور دن کے وقت دھوپ سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات کریں، کیونکہ اپریل کی دوپہر کافی گرم ہو سکتی ہے۔

Historical Dates

Easter Sunday dates in Pakistan from 2010 to 2025

Year Day of Week Date
2025 Sunday April 20, 2025
2024 Sunday March 31, 2024
2023 Sunday April 9, 2023
2022 Sunday April 17, 2022
2021 Sunday April 4, 2021
2020 Sunday April 12, 2020
2019 Sunday April 21, 2019
2018 Sunday April 1, 2018
2017 Sunday April 16, 2017
2016 Sunday March 27, 2016
2015 Sunday April 5, 2015
2014 Sunday April 20, 2014
2013 Sunday March 31, 2013
2012 Sunday April 8, 2012
2011 Sunday April 24, 2011
2010 Sunday April 4, 2010

Note: Holiday dates may vary. Some holidays follow lunar calendars or have different observance dates. Purple indicates weekends.