Holiday Details
- Holiday Name
- March Equinox
- Country
- Pakistan
- Date
- March 20, 2026
- Day of Week
- Friday
- Status
- 76 days away
- About this Holiday
- March Equinox in Pakistan (Karachi)
Pakistan • March 20, 2026 • Friday
Also known as: اعتدال ربیعی
پاکستان میں اعتدالِ ربیعی، جسے عام طور پر "مارچ ایکوینوکس" کہا جاتا ہے، ایک اہم فلکیاتی واقعہ ہے جو موسموں کی تبدیلی کی نوید لاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب سورج خطِ استوا کے عین اوپر سے گزرتا ہے، جس کے نتیجے میں زمین کے شمالی اور جنوبی نصف کروں میں دن اور رات کا دورانیہ تقریباً برابر ہو جاتا ہے۔ پاکستان، جو کہ شمالی نصف کرے (Northern Hemisphere) میں واقع ہے، اس دن سے باقاعدہ طور پر موسمِ بہار کے آغاز کا مشاہدہ کرتا ہے۔ یہ دن سائنسی اور جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ سردیوں کی طویل اور ٹھنڈی راتوں کے خاتمے اور روشن، طویل اور گرم دنوں کے آغاز کی علامت ہے۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں، خاص طور پر شمالی اور وسطی حصوں میں، اس تبدیلی کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ جب سورج کی شعاعیں براہِ راست خطِ استوا پر پڑتی ہیں، تو درجہ حرارت میں اعتدال آنے لگتا ہے۔ اسلام آباد، لاہور، اور پشاور جیسے شہروں میں درختوں پر نئی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں اور پھولوں کی خوشبو فضا میں بکھرنے لگتی ہے۔ اگرچہ یہ کوئی مذہبی یا روایتی تہوار نہیں ہے، لیکن فطرت کے اس بدلاؤ کا اثر انسانی زندگی، زراعت اور روزمرہ کے معمولات پر گہرا ہوتا ہے۔ لوگ بھاری گرم کپڑوں کو الوداع کہنا شروع کر دیتے ہیں اور باہر کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
یہ واقعہ کائنات کے اس عظیم نظام کی عکاسی کرتا ہے جس میں زمین اپنے محور پر جھکی ہوئی سورج کے گرد چکر لگاتی ہے۔ اعتدالِ ربیعی کے موقع پر زمین کا جھکاؤ نہ تو سورج کی طرف ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے دور، بلکہ یہ ایک متوازن مقام پر ہوتی ہے۔ پاکستان میں اس وقت دن کی روشنی تقریباً 12 گھنٹے اور رات کا دورانیہ بھی 12 گھنٹے کے قریب ہوتا ہے۔ اس توازن کے بعد، سورج آہستہ آہستہ شمالی جانب مائل ہونا شروع ہوتا ہے، جس سے پاکستان میں دن لمبے ہونے لگتے ہیں اور گرمیوں کی آمد کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
پاکستان میں سال 2026 کے لیے اعتدالِ ربیعی کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
تاریخ: March 20, 2026 دن: Friday باقی دن: اس اہم فلکیاتی واقعے میں اب صرف 76 دن باقی ہیں۔
اعتدالِ ربیعی کی تاریخ ہر سال ایک جیسی نہیں رہتی بلکہ یہ 19، 20 یا 21 مارچ کے درمیان بدلتی رہتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین کو سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرنے میں ٹھیک 365 دن نہیں بلکہ تقریباً 365.24 دن لگتے ہیں۔ اس معمولی فرق کو پورا کرنے کے لیے لیپ سال (Leap Year) کا تصور رکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے فلکیاتی واقعات کی تاریخوں میں معمولی تبدیلی آتی رہتی ہے۔ پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق، یہ واقعہ عام طور پر دوپہر کے وقت پیش آتا ہے جب سورج آسمانی خطِ استوا کو عبور کرتا ہے۔
سائنس کی دنیا میں "ایکوینوکس" (Equinox) لاطینی زبان کے دو الفاظ 'Aequus' (برابر) اور 'Nox' (رات) سے نکلا ہے۔ اس کا سادہ مطلب "برابر رات" ہے۔ پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع کے لحاظ سے، یہ وہ لمحہ ہے جب زمین کا شمالی قطب سورج کی طرف جھکنا شروع کر دیتا ہے۔
پاکستان میں اس دن سورج عین مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور عین مغرب میں غروب ہوتا ہے۔ سال کے باقی دنوں میں، طلوع اور غروبِ آفتاب کا مقام تھوڑا سا شمال یا جنوب کی طرف سرک جاتا ہے۔ ماہرینِ فلکیات کے لیے یہ دن حساب کتاب کرنے اور زمین کی گردش کے نمونوں کو سمجھنے کے لیے بہت اہم ہے۔ پاکستان کی مختلف رصد گاہوں اور تعلیمی اداروں میں اس دن کے حوالے سے سائنسی معلومات شیئر کی جاتی ہیں تاکہ طلبہ کائنات کے اس نظام کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
جغرافیائی طور پر، پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں موسموں کا تنوع بہت زیادہ ہے۔ جب مارچ میں اعتدالِ ربیعی ہوتا ہے، تو سندھ اور بلوچستان کے میدانی علاقوں میں گرمی کی لہر محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے، جبکہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں برف پگھلنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ یہ پانی دریاؤں میں بہتا ہوا پنجاب کے زرخیز میدانوں تک پہنچتا ہے، جو کہ زراعت کے لیے زندگی کی علامت ہے۔
اگرچہ اعتدالِ ربیعی بذاتِ خود ایک سائنسی واقعہ ہے، لیکن پاکستان میں اسے "آمدِ بہار" کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں موسمِ بہار ایک مختصر لیکن انتہائی خوبصورت فصل ہے۔
ایک اہم بات جو واضح کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ مارچ اعتدال (March Equinox) پاکستان میں کوئی سرکاری یا عوامی تعطیل نہیں ہے۔
پاکستان کے سرکاری کیلنڈر میں اس دن کے حوالے سے کوئی چھٹی درج نہیں ہے۔ تمام سرکاری و نجی دفاتر، بینک، تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز معمول کے مطابق کھلے رہتے ہیں۔ پاکستان میں مارچ کے مہینے میں کچھ دیگر اہم تعطیلات ہوتی ہیں جن کے ساتھ اکثر لوگ اسے ملا دیتے ہیں:
اگرچہ پاکستان میں اعتدالِ ربیعی کو ایک خالص فلکیاتی واقعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن خطے کے دیگر ممالک میں اس کی بڑی ثقافتی اہمیت ہے۔ مثلاً ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا میں اسے "نوروز" (Persian New Year) کے طور پر منایا جاتا ہے۔
پاکستان کے کچھ علاقوں، خاص طور پر گلگت بلتستان اور بلوچستان کے بعض حصوں میں، نوروز کی چھوٹی موٹی تقریبات دیکھنے کو ملتی ہیں جہاں مقامی لوگ نئے سال اور بہار کا جشن مناتے ہیں۔ تاہم، قومی سطح پر پاکستان میں اسے صرف ایک موسمی تبدیلی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں بہار کا اصل جشن "جشنِ بہاراں" کی صورت میں منایا جاتا ہے جو مختلف شہروں میں مختلف تاریخوں پر ہوتا ہے، لیکن اس کا مرکز عموماً مارچ کا مہینہ ہی ہوتا ہے۔
اگر آپ 2026 میں اعتدالِ ربیعی کے دوران پاکستان کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو یہ ایک بہترین فیصلہ ہو سکتا ہے۔
موسم: اس دوران موسم انتہائی خوشگوار ہوتا ہے۔ نہ بہت زیادہ سردی ہوتی ہے اور نہ ہی شدید گرمی۔ شمالی علاقوں کی سیر کے لیے یہ وقت بہت اچھا ہے کیونکہ برف پگھلنے سے راستے کھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ لباس: ہلکے سوتی کپڑے اور شام کے لیے ایک ہلکی جیکٹ کافی ہوتی ہے۔ تقاریب: اگرچہ اعتدالِ ربیعی پر کوئی مخصوص تقریب نہیں ہوتی، لیکن آپ 23 مارچ کی "یومِ پاکستان" کی تقریبات دیکھ سکتے ہیں جو کہ انتہائی پروقار ہوتی ہیں۔
مارچ اعتدال یا اعتدالِ ربیعی پاکستان کے لیے ایک خاموش لیکن خوبصورت تبدیلی کا پیغام لاتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کائنات ایک نظم و ضبط کے تحت چل رہی ہے۔ March 20, 2026 کو جب پاکستان میں دن اور رات برابر ہوں گے، تو یہ ایک نئے دور، نئی امیدوں اور بہار کے رنگوں کا آغاز ہوگا۔ اگرچہ اس دن کوئی سرکاری چھٹی نہیں ہوگی، لیکن فطرت کا یہ بدلتا ہوا رنگ ہر پاکستانی کے دل کو خوشی اور تازگی فراہم کرے گا۔
پاکستان میں اس واقعے کی اہمیت سائنسی فہم، زرعی منصوبہ بندی اور موسمیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے میں پنہاں ہے۔ جیسے جیسے ہم 2026 کی اس تاریخ کی طرف بڑھ رہے ہیں، ہمیں اس فلکیاتی توازن کی قدر کرنی چاہیے جو ہماری زندگیوں میں اعتدال اور خوبصورتی لاتا ہے۔
Common questions about March Equinox in Pakistan
پاکستان میں اعتدالِ ربیعی یا موسم بہار کا آغاز Friday، March 20, 2026 کو ہوگا۔ آج سے اس فلکیاتی واقعے میں صرف 76 دن باقی ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب سورج خط استوا کے بالکل اوپر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے دن اور رات کا دورانیہ تقریباً برابر ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ عام طور پر دوپہر کے وقت پیش آتا ہے اور اسے شمالی نصف کرے میں موسم بہار کا باقاعدہ آغاز سمجھا جاتا ہے۔
جی نہیں، پاکستان میں اعتدالِ ربیعی (March Equinox) کے موقع پر کوئی عام تعطیل نہیں ہوتی۔ یہ ایک فلکیاتی اور موسمی واقعہ ہے، اس لیے تمام سرکاری و نجی دفاتر، بینک، اسکول اور کاروباری مراکز معمول کے مطابق کھلے رہتے ہیں۔ پاکستان میں مارچ کے مہینے میں دیگر تعطیلات جیسے کہ یومِ پاکستان (23 مارچ) اور 2026 میں عید الفطر کی چھٹیاں متوقع ہیں، لیکن 20 مارچ ایک باقاعدہ کام کا دن ہوتا ہے۔
اعتدالِ ربیعی یا 'مارچ ایکوینوکس' اس لمحے کو کہتے ہیں جب زمین کا محور سورج کی طرف جھکا ہوا نہیں ہوتا، بلکہ سورج کی شعاعیں براہ راست خط استوا پر پڑتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پوری دنیا میں دن اور رات کی لمبائی تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے جو شمالی نصف کرے میں واقع ہیں، یہ سردیوں کے خاتمے اور خوشگوار موسم بہار کے آغاز کی علامت ہے، جس کے بعد دن آہستہ آہستہ لمبے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
پاکستان میں اس دن کو منانے کے لیے کوئی مخصوص قومی یا مذہبی تقاریب منعقد نہیں کی جاتیں۔ چونکہ یہ ایک موسمی تبدیلی ہے، اس لیے لوگ اسے ایک عام دن کے طور پر ہی گزارتے ہیں۔ تاہم، فطرت سے محبت کرنے والے افراد اسے موسم بہار کی آمد کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اسلام آباد اور لاہور جیسے شہروں میں لوگ پارکوں کا رخ کرتے ہیں اور کھلے ماحول میں وقت گزارنا پسند کرتے ہیں کیونکہ اس وقت موسم انتہائی معتدل اور خوشگوار ہوتا ہے۔
پاکستان میں اعتدالِ ربیعی سے متعلق کوئی خاص قدیم روایات یا باقاعدہ رسومات رائج نہیں ہیں۔ اگرچہ پڑوسی ممالک اور کچھ مخصوص ثقافتوں میں اسے 'نوروز' کے طور پر منایا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں اسے بنیادی طور پر ایک سائنسی اور موسمی حقیقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ کیلنڈروں میں اسے ایک مشاہداتی دن کے طور پر درج کیا جاتا ہے، اور لوگ اسے کسی مخصوص تقریب کے بجائے صرف کیلنڈر کی ایک تبدیلی کے طور پر جانتے ہیں۔
مارچ کے وسط میں پاکستان کے بیشتر حصوں میں موسم بہت خوشگوار ہوتا ہے۔ درجہ حرارت عام طور پر 15 سے 25 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہتا ہے۔ شمالی علاقوں اور پنجاب میں پھول کھلنے لگتے ہیں اور ہریالی نظر آتی ہے۔ یہ وقت سیاحت کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے کیونکہ نہ تو کڑاکے کی سردی ہوتی ہے اور نہ ہی شدید گرمی۔ لوگ اس موسم میں باہر نکلنے اور تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔
سیاحوں کے لیے یہ پاکستان کا دورہ کرنے کا بہترین وقت ہے۔ چونکہ یہ کوئی عوامی تعطیل نہیں ہے، اس لیے ٹرانسپورٹ اور ہوٹلوں کی بکنگ میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ سیاحوں کو چاہیے کہ وہ ہلکے گرم کپڑے ساتھ رکھیں کیونکہ شام کے وقت تھوڑی ٹھنڈ ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، سیاح اسلام آباد کے شکر پڑیاں یا لاہور کے باغات کی سیر کر سکتے ہیں جہاں بہار کی رونقیں عروج پر ہوتی ہیں۔ یہ وقت فوٹوگرافی اور فطرت کے نظاروں کے لیے موزوں ہے۔
نہیں، اس دن تمام کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہتی ہیں۔ بازار، شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس اور پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر کھلے ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ کوئی مذہبی یا قومی تہوار نہیں ہے، اس لیے کام کے اوقات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اگر آپ خریداری کرنا چاہتے ہیں یا کسی سرکاری دفتر جانا چاہتے ہیں، تو آپ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا پروگرام بنا سکتے ہیں۔
March Equinox dates in Pakistan from 2010 to 2025
| Year | Day of Week | Date |
|---|---|---|
| 2025 | Thursday | March 20, 2025 |
| 2024 | Wednesday | March 20, 2024 |
| 2023 | Tuesday | March 21, 2023 |
| 2022 | Sunday | March 20, 2022 |
| 2021 | Saturday | March 20, 2021 |
| 2020 | Friday | March 20, 2020 |
| 2019 | Thursday | March 21, 2019 |
| 2018 | Tuesday | March 20, 2018 |
| 2017 | Monday | March 20, 2017 |
| 2016 | Sunday | March 20, 2016 |
| 2015 | Saturday | March 21, 2015 |
| 2014 | Thursday | March 20, 2014 |
| 2013 | Wednesday | March 20, 2013 |
| 2012 | Tuesday | March 20, 2012 |
| 2011 | Monday | March 21, 2011 |
| 2010 | Saturday | March 20, 2010 |
Note: Holiday dates may vary. Some holidays follow lunar calendars or have different observance dates. Purple indicates weekends.